لکھنؤ ،07؍مئی ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )کیرانہ لوک سبھا ضمنی انتخاب سے پہلے بی ایس پی سربراہ مایاوتی کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔چینی ملوں کی فروخت کے معاملے میں ان کے خلاف سی بی آئی کا شکنجہ کس سکتا ہے۔مایاوتی کے دور حکومت کے دوران سال 2010-11 میں اتر پردیش کی حکومت نے 21 سرکاری چینی ملوں کو ہری جھنڈی دی تھی۔اس سے ریاستی حکومت کو مبینہ طور پر 1,179 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔اب سی بی آئی نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ایسے میں اتر پردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی کے خلاف بھی تحقیقات ہو سکتی ہے۔مایاوتی 2007-12 کے تک ریاست کی وزیر اعلی تھیں۔سابق وزیر اعلی کے قریبی ساتھی رہے نسیم الدین صدیقی نے دعوی کیا تھا کہ چینی ملوں کو اس وقت سی ایم مایاوتی اور بی ایس پی کے سیکرٹری جنرل ستیش چندر مشرا کی ہدایات کے بعد فروخت کیا گیا تھا۔وہیں، مایاوتی نے دعوی کیا تھا کہ چینی ملوں کی فروخت کو لے کر تسلیم الدین نے حکم جاری کیا تھا۔تسلیم الدین کو بعد میں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے ’چینی مل اسکینڈل‘کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا اعلان کیا تھا۔اتر پردیش کی حکومت نے اس معاملے کو 12 اپریل کو باضابطہ طور پر سی بی آئی کے حوالے کر دیا تھا۔ریاست کے چیف سکریٹری (داخلہ)اروند کمار نے اس کی اطلاع دی۔ان کے مطابق، چینی ملوں کی فروخت میں کچھ گڑبڑیاں پائی گئی ہیں۔لہٰذا معاملے کی جانچ کے لیے سی بی آئی کے حوالے کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق جانچ ایجنسی دستاویزات کی چھان بین شروع کر دی ہے اور جلد ہی ایف آئی آر درج کر لی جائے گی۔سی بی آئی اس گھوٹالے میں سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور تاجروں کے ملوث ہونے کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔اس بابت نومبر، 2017میں لکھنؤ کے گومتی نگر میں داخل ایف آئی آر کی کاپی سی بی آئی کو مہیا کرائی جا چکی ہے۔اتر پردیش کی طرف سے ریکارڈ ایف آئی آر میں سرکاری چینی ملوں کو خریدنے والی نمرتا مارکیٹنگ پرائیویٹ لمیٹڈ اور گراشو کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کا نام شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دونوں کمپنیاں فرضی ہیں۔اس وقت مایاوتی حکومت پر 21 چینی ملوں کو مارکٹ کی شرح سے کم قیمت پر ان ملوں کو فروخت کرنے کا الزام ہے۔ملائم سنگھ یادو کی حکومت نے بھی ان چینی ملوں کو فروخت کرنی کی کوشش کی تھی، لیکن ہائی کورٹ کی مداخلت کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔